انسان سکونِ قلب خود ضائع کرتا ہے اور یہ اپنے آپ کو پریشان کرتا ہے اور بڑی کوشش سے پریشان کرتا ہے ورنہ اس کا سکون کیسے برباد ہو۔ یہ کسی کو چھیڑ کے، کسی کو تنگ کر کے، کسی سے مار کھا کے، کسی کی پگڑی اچھال کے، اور ایسے ایسے تماشے کرتا رہتا ہے کہ پھر اپنا سکون ضائع کر بیٹھتا ہے۔ پہلے دوسرے کو چھیڑتا ہے اور پھر خود پریشان ہوتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے۔ لہٰذا آپ دوسروں کی تذلیل کرنا چھوڑ دو، شکایت کرنا چھوڑ دو اور تنقید کرنا چھوڑ دو۔جو آدمی تنقید کرنے والا نہیں ہوتا وہ سکون میں رہتا ہے۔ تقاضہ چھوڑ دو، شکائیتں چھوڑ دو، گلہ چھوڑ دو، شکوے چھوڑ دو، سب کو چلنے دو، اللّٰه جانے اور اللّٰه کی مخلوق جانے، بس آپ اپنا کام کرتے جاؤ۔
حضرت واصف علی واصف رح

0 تبصرے