زندگی کے بہت سے رنگ ہیں میں اور آپ جس رنگ کو چنّا پسند کرتے ہیں وہ نہیں چن پاتے۔ اسکی ایک وجہ جو مجھے معلوم ہوئی(صحیح غلط کے علاوہ) وہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو قبول ہی نہیں کرتے ہم اپنے احساسات، خواہشات، اچھائی، برائی یہاں تک کے اپنے روپ سے بھی انکاری ہیں ! کیوں؟؟؟؟ کبھی سوچا ہے جب ہم خود کو قبول نہیں کر پارہے ہم دنیا والوں کو کیسے قبول کریں گے ہم اپنی سچائیوں سے بھاگتے رہیں گے آخر کب تک؟
مقصد: حالات اپنے ہو یا دوسروں کے قبول کرنا آسان نہیں شاید اسی لیے ہم فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن کب تک؟
اک سوال آج خود سے۔
زندگی نہ رکنے والا اک سفر ہے یہاں آگے برھنے کے لیے میری نظر میں واحد راستہ ہے قبول کرنا اپنی خامیوں کو دوسروں کی اچھائیوں کو اور زندگی کی حقیقتوں کو قبول کرنا پڑیگا۔ ورنہ ہوسکتا ہے میں اور آپ اک تھکا دینے والا ادھورا سفرچھوڑ جائیں۔۔
مثالیں: کیا میں نے اور آپ نے اللہ کا طے کردہ رزق قبول کیا؟
کیا اللہ کا انتخاب کردہ ہمسفر قبول کیا؟
کیا اللہ کا دیا ہوا روپ مکمل قبول کیا؟
کیا اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو قبول کرکے بغض اور کینہ سے بچیں؟
کیا آپ جس گھر میں پیدا ہوئے ہے اسے قبول کیا؟ اکثر کہتے ہیں مجھے ان لوگوں میں یا اس گھر میں پیدا ہی نہیں ہونا چاہئیے تھا۔
نوٹ: پھر ہم کہتے ہیں زندگی نے ہمیں کچھ نہیں دیا یقینا دیا سب ہے بس قبول کرنا ہے۔
ام مومن
آپکو ہماری پوسٹ کیسی لگی؟ کومینٹ کرکے کے اپنی رائے کا اظہار کریں شکریہ۔

0 تبصرے