جب بیٹی دنیا میں آتی ہے تو ہم اس کے
 اچھے نصیب کے لئے دعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے لیئے فکرمند ہونے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں اس کے  پرائے ہوجانے کا خیال بھی ستانے لگتا ھے۔ پھر ہم اس کے اچھے نصیب کے لئے تدابیر بھی سوچنے لگتے ہیں۔ یہ کریں گے تو یہ خوش رہے گی، وہ کریں گے تو  یہ خوش رہے گی۔ ان سب سوچوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے اچھے اخلاق کی طرف بھی دھیان دینا ہے۔ اس کی تربیت ایسی کرنی ہے کہ اس کی نیک طبیعت کی وجہ سے اللّہ خود اس کی راہ کا ہر کانٹا نکال پھینکے۔ 

اپنی بیٹی کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی ہنر لازمی سکھائیں۔ 
اس کے علاوہ اگر آپ اس پر کام نہیں بھی کرنا چاھیں پھر بھی اس کو کام سکھائیں ضرور۔ کہ اگر کبھی زندگی میں اس کو کام کرنا پڑے تو وہ کسی کی محتاج نہ ہو۔ اپنا کام خود کر سکے۔
!جیسے
چند ایسے بنیادی کام جو ہر لڑکی کو ہر حال میں آنے چاہیئں ۔خواہ وہ لڑکی ڈاکٹر بن رہی ہو یا انجینئر یا گھر پہ بیٹھی انٹرنیٹ استعمال کررہی ہو۔
آپ کے گھر نوکر چاکر ہیں اور آپ بیٹی کی شادی بھی کسی امیر خاندان میں کرنے کاارادہ رکھتی ہیں تب بھی یہ چند بنیای کام ملازمین کی موجودگی میں بھی آنا ضروری ہیں ۔

 اور یہ تمام چھوٹے موٹے کام جو میں بتانے جارہی ہوں یہ ذیادہ وقت نہیں لیتے۔

صبح اٹھتے ہی اپنا بستر تہ کرکے جگہ پہ رکھنا۔
یہ وہ کام ہے جس کی عادت بچیوں کو کم عمری سے ہی ڈال دینی چاہیے۔
ورنہ ساری زندگی یہ ہی عادت رہتی ہے کہ سو کر اٹھیں ادھر لڑھکیں ادھر لڑھکیں مگر بستر گھنٹوں کمرے میں پڑے منہ چڑاتے رہتے ہیں۔

اپناکمرہ سمیٹنا اور دھلے کپڑے الماری میں رکھنا۔ بکھیڑے میں رہنے کی عادت نہ ڈالیں بیٹی کو۔
استعمال کی جو چیز جہاں سے اٹھائی وہیں واپس رکھ دی جائے۔
 دھلے کپڑے فورا الماری میں رکھ دیے جائیں ۔
ہر ہفتے الماری ٹھیک کرلی جائے۔
بچیوں کو الماری سیٹ کرکے رکھنا ضرور سکھاٸیے۔
  سامان کو ادھر ادھر پھینک دینے والے خود بھی بے سکون رہتے ہیں اور ان کےساتھ ذندگی گزارنے والے بھی پریشان ہی رہتے ہیں۔
کچھ جگہوں پہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ خاتون خانہ ہر کام میں ماہر ہیں سلائی کڑھائی ککنگ مگر ان کے اردگرد عجیب سی افراتفری یا پھیلاوا محسوس ہوتا ہے۔

بہت سی خواتین کے گھر چھوٹے ہیں مگر سمٹے ہوئے ہوتے ہیں کچھ خواتین بڑے گھر میں بھی پھیلاوا کیے رہتی ہیں کیونکہ انہیں چیزیں سمیٹنے اور کس چیز کوکہاں رکھنے کا سلیقہ نہیں ہوتا ہے۔

کپڑوں کی چھوٹی موٹی سلائی۔
اکثر سترہ اٹھارہ سال کی لڑکیاں بھی اپنے کپڑے لیے ماں کے سر پر سوار ہوتی ہیں کہ میں نہانے جارہی ہوں میری آستین ادھڑ گئی ہے سلائی لگادیں۔
بچیوں کو مشین چلاناسکھادیں ورنہ سوئی دھاگے کا استعمال سکھادیں تاکہ جو کپڑے ادھڑ جائیں کم از کم وہ خود سی سکیں ۔۔ قمیض کے بٹن جو نکل جاٸیں وہ لگالیں ۔

اچانک آنے والے مہمانوں کا استقبال اور خاطر مدارت۔
اگر گھر کوٸی مہمان اچانک آجاٸے اور گھر پہ کوٸی بڑا نہ ہو تو کچھ بچیاں گھبراجاتی ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ مہمانوں کے لیےکیا سرو کرنا مناسب رہے گا۔
اس لیے مہمانوں کی آمد پر بچیوں سے چاٸے ناشتہ ٹیبل پر لگواٸیے تاکہ انہیں علم ہو کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے۔ بچیوں کو چاٸے اور شربت بنانا سکھادیجیے۔ تاکہ کوٸی گھر پر نہ بھی ہو تو مہمانوں کی تواضع کے لیے کم از کم چاٸے یا شربت پیش کرنے میں گھبراٸیں نہیں۔
بیٹوں کو بھی یہ کام سکھانے چاہیٸیں لیکن لڑکیوں کیلئے زیادہ ضروری اسلیے ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ہی بعد میں گھر پر رہنا ہوتا ہےاور اپنا اور بچوں کا پھیلاوا سمیٹنا ہوتا ہے۔

منقول#

آپکو ہماری پوسٹ کیسی لگی ؟ کومینٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں شکریہ۔