تکبیر
 :   اللّہ اکبر اللّہ اکبر    لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر  اللہ اکبر  وللہ الحمد۔  

     ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی صبح سے تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد باآواز بلند ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے ۔ با جماعت نماز پڑھنے والوں کو بھی پڑھنا واجب ہے۔ اسی طرح مرد اور عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت باآواز بلند تکبیر نہ کہے بلکہ  آہستہ کہے۔
 (شامی )
 نوٹ: نماز باجماعت میں اگر امام بھول جائے تو مقتدی یاد دلائیں۔ 

: فرمان خداوندی  
حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا اور اپنے بیٹے  حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: اے بیٹے!  میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا " ابّا جان جس بات کیلئے آپ سے کہا گیا ہے اسے فی الفور پورا کیجئے۔ انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے"۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر  ایک مقام پر پہنچے اور بیٹے کو زمین پر لٹا دیا۔ ہاتھ میں چھری پکڑ لی۔ اللہ کے دونوں نیک بندوں نے اپنے رب کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔  
حضرت ابراھیم علیہ السلام چھری کے وار سے اپنے عزیز بیٹے کو اللّہ کی راہ میں قربان کرنے ہی والے تھے کہ  حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللّہ نے ایک جانور لٹا دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کھڑا کر دیا۔ اور آواز آئی۔ اے ابراھیم علیہ السلام ! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔ ہم یونہی اچھا کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے اسے ایک بہت بڑی قربانی کے عوض ذبح ہونے سے بچا لیا اور ہم نے بعد میں آنیوالی نسلوں کیلئے اس واقعہ کی یاد کو باقی رکھا۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام پر سلامتی ہو ہم نیکوں کاروں کو اس طرح جزا دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ 
(صفت 107 تا 11)

 :عید الاضحٰی
 مسلمانوں کیلئے سال میں دو تہوار منانے کی اسلام میں حکم ہے ۔ ایک عیدالفطر جو کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد مسلمانوں کو انعام کے طور پر ملی ہے اور دوسری عیدالاضحٰی ۔ ہمارے لئے یہ عید بڑی برکتوں والی ہے۔ جیسے کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ کیسے ابراھیم علیہ السلام کو اللّہ نے اتنے بڑے امتحان میں ڈالا۔ جس میں وہ سرخرو ہوۓ۔ جس کے انعام میں اللّہ نے ہمیں یہ عید قربان عطا فرمائی۔ جس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بیٹے کی جگہ اللّہ نے ایک جانور بھیج دیا اور وہ قربان ہوگیا۔
اس عید میں ہر مسلمان کیلئے خوشی ہے۔ جو امیر ہے وہ بھی اللّہ کی راہ میں قربانی کرکے خوشی محسوس کرتا ہے اور جو غریب ہے ، سارا سال گوشت کھانے کیلئے ترستا ہے اس کیلئے بھی خوشی ہے کہ وہ اس عید پر گوشت کھاتا ہے۔ پہلی امتوں کے لوگ جب قربانی کرتے تھے تو قربانی کا گوشت ایک کھلے میدان میں رکھا جاتا تھا اور اللّہ وہ گوشت( جس کی قربانی قبول ہوتی تھی)  آسمان پر اٹھا لیتے تھے۔ جبکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کیلئے اتنی آسانیاں ہیں ، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے۔ ہماری قربانی کا گوشت ہم خود بھی کھاتے ہیں ، رشتہ داروں اور غریبوں میں بھی بانٹتے ہیں۔

:عید الاضحٰی کے مسائل
عیدالاضحٰی میں غسل کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا، اچھا لباس زیب تن کرنا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا ( عیدالفطر میں قبل نماز شیریں چیز کھانا) یہ سب سنّت ہے۔ صدقہ اور خیرات کی کثرت، آپس میں ملنا اور مبارک باد دینا، خوشی کا اظہار ( مذہبی اور باوقار طریقے پر کرنا)،  مصافحہ کرنا اور معانقہ کرنا۔ یہ سب مستحب ہیں۔ جس کی قربانی ہو اس کو ذی الحجہ کی چاند رات سے نماز عید تک خط نہ بنوانا اور ناخن نہ تراشنا مستحب ہے۔
عیدالاضحٰی کی نماز کا وقت آفتاب کے بقدر نیزہ بلند ہونے سے شروع ہوکر زوال کے وقت تک ہے۔ اگر نماز زوال کے وقت پڑھی گئی تو فاسد ہوجائے گی۔

:نیّت
 قرآن کی آیات میں ہے جس کا مفہوم   ہے کہ
 اللّہ تمہاری قربانی کے گوشت کا محتاج نہیں اور اس کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہاری خالص نیّت پہنچتی ہے۔ معلوم ہوا کہ عبادت کے ساتھ نیّت بھی خالص ہونی چاہئیے۔ اور جب نیّت خالص ہو تو عبادت بہت جلد بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو جاتی ہے۔ ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قربانی ایک اہم عبادت ہے۔ اور اس کا کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان کیلئے فرض ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس اہم عبادت کو اپنائیں اور اس کے زریعے اجر و ثواب اور اللّہ کی خشنودی حاصل کریں۔

 :قربانی کے دن
 قربانی کے دن تین ہیں۔ دسویں ذی الحجہ، گیارہویں ذی الحجہ ، اور بارہویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک قربانی کا وقت ہے۔ بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب کے بعد قربانی قضا ہو جائے گی۔ جانور ذبح کرنے کے باوجود قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہوگی۔ ان تینوں دنوں میں پہلا دن سب سے اہم ہے، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔

:قربانی کے جانور
 اونٹ، گائے، بھینس، بکرا، دنبہ اور بھیڑ پر قربانی جائز ہے۔ ( نر اور مادہ کیلئے ایک ہی حکم ہے) خصی جانور کی قربانی افضل ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے کسی جانور کی قربانی جائز نہیں۔
نر اور مادہ کیلئے ایک ہی حکم ہے۔ قربانی کا جانور تندرست اور سالم الاعضاء ہونا ضروری ہے۔ بیمار یا بہت لاغر جو ذبح کے جگہ تک نہ پہنچ سکے۔ لنگڑا، اندھا، کان، ناک، دم، سینگ، تھن یا کوئی عضو اگر تہائی سے زیادہ کٹا ہو۔ جس کے کان اور دانت سرے ہی سے پیدا نہ ہوئے ہوں یا بکری کا ایک اور گائے، بھینس کے دو تھن نہ ہوں یا علاج سے خشک کر دیئے گئے ہوں کہ دودھ نہ اتر سکے ایسے تمام جانوروں پر قربانی جائز نہیں۔ اونٹ، گائے اور بھینس میں سات آدمی تک شریک ہو سکتے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا افضل ہے۔ اللّہ ہم سب کو اپنے دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
ام مومن

دعاؤں میں یاد رکھیں شکریہ۔