!
اسلام وعلیکم
میرا آج کا موضوع ہے عورت کا اپنےشوہر  کا فرمانبردار ہونا۔
عورت پر اسکے شوہرکے کیاحقوق ہیں۔ 100 فیصد میں سے 95 فیصد لوگ اس کے بارے میں علم رکھتے ہیں۔ مگر عمل 30 فیصد عورتیں کرتی ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی اپنی میں ختم کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جو کہ ہر برائی کی جڑ ہے۔ سب سے پہلے جو 5 فیصد لوگ لاعلم ہیں شوہر کے حقوق کے بارے میں ان کو میں کچھ اہم پوائنٹ بتادوں۔ پھر آگے بات بڑھاتی ہوں۔ 
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اللّہ اور اس کے رسول صلی اللّہ علیہ والہ وسلم کی بات ماننے اور اس پر عمل کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے۔ 

ایک  حدیثِ مبارک میں ہے۔

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي  أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية".(مشکاة المصابیح، 2/281،  باب عشرة النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ:  حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے روزے  (ادا اور قضا) رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔(مظاہر حق، 3/366، ط: دارالاشاعت)
''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ)کوسجدہ کرے تومیں یقیناًعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوندکرسجدہ کرے۔"

صاحب مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے،کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں،جن کی ادائیگی شکرسے وہ عاجزہے،گویااس ارشادگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔ 
عورت کا شوہر اس کا مجازی خدا ہوتا ہے۔ اس لئے شوہر کا ہر حکم ماننا ہے۔ سوائے وہ کام ( نہیں ما ننے) جو اسلام میں حرام ہیں ۔ 
بیوی کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، ایسی خاتون کےبارےمیں حدیث میں وعید آئی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ  ایک خاتون  نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شوہر کا حق  اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتہ  اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

بصورتِ مسئولہ بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر  گھر سےنکلنا اور اپنےمیکے جانا جائز نہیں، اور  اپنے میکےمیں شوہر کے بتائے ہوئے دنوں سے زیادہ رکنا بھی جائز نہیں، اگر  اپنے شوہر کےبتائے ہوئے دنوں سے زیادہ دن شوہر  کی اجازت کے بغیر رکے گی تو  از روئے شرع نافرمان ہوگی اور شوہر کے ذمہ نفقہ بھی نہیں ہوگا۔ البتہ شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہفتے میں ایک مرتبہ بیوی کے والدین سے اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ اس کے محارم سے اس کی ملاقات کی اجازت دے، خواہ خود لے جاکر ملاقات کرائے یا اپنی اجازت سے بھیجے یا بیوی کے والدین کو اپنے گھر ملاقات کا موقع دے۔ میاں بیوی کا رشتہ قانون سے زیادہ اخلاق سے چلتا اور پائیدار رہتاہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھروالوں (بیوی) کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب سے زیادہ اچھا (سلوک کرنے والا) ہوں۔
) ، اسی اطاعت شعاری کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب شوہر بیوی کو اپنا طبعی تقاضا پورا کرنے کے لیے بلائے تو بیوی انکار نہ کرے، اس سلسلے میں حدیثِ مبارک میں واضح تعلیمات موجود ہیں، چنانچہ ارشادِ مباک ہے: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیےبلائے اور بیوی انکار کرے، جس پر شوہر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں (مشکاۃ)، دوسری روایت میں ہے: جب شوہر اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تو وہ اس کے پاس چلی جائے اگر چہ روٹی پکانے کے لیے تنور پر کھڑی ہو (مشکاۃ)۔ لہذا بغیر کسی عذر شرعی کے عورت کو شوہر کی طبعی ضروریات پورا کرنے سے انکار کرنا درست نہیں ہے۔

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح» . متفق عليه. وفي رواية لهما قال: «والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطًا عليها حتى يرضى عنها»". (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 280 ط: قديمي)

"وعن طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور». رواه الترمذي". (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: (281 ط: قديمي
اگر آپ شوہر کی تابعداری شوہر کے لئے کریں گی تو آپکو عمل کرنا مشکل ہوگا۔ مگر اگر آپ اپنے لئے شوہر کی تابعداری کریں گی اور اللّہ کیلئے کریں گی پھر آپکو عمل کرنا آسان ہوگا۔ کیونکہ جس کو جنت کی چاہ ہوگی اور اللّہ کو راضی کرنا ہوگا تو وہ ضرور عمل کرے گا۔ 
اگر آپ اپنی اصلاح کرنا چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ آپ سے آپکا شوہر خوش ہوجائے اور آپ سیدھی جنت میں جائیں تو آپ کتاب" تحفہ دلہن پڑھیں اور صرف پڑھیں نہیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں۔ اس کو دل میں بٹھائیں۔
اگر آپ کے ساتھ آپ کے شوہر کا سلوک اچھا نہیں ہے تو برداشت کریں۔ اللّہ سے دعائیں کریں۔ دل میں اپنے شوہر کے لئے پھر بھی برائی مت لائیں۔ اور نہ ہی شوہر کی برائی کسی سے کریں۔ کیونکہ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے دل میں شوہر کے لئے نرمی، محبت اور عزت رکھیں گی تو شوہر کے دل میں خود اللّہ آپکی محبت پیدا کردے گا۔ انشاءاللہ
یہاں ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ 
کہتے ہیں کہ ایک بزرگ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ میرے شوہر  کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوجائے اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگے۔ بزرگ نے اس عورت سے فرمایا کہ تم پہلے مجھے شیر کا بال لاکردو میں اس پر عمل کروں گا ۔ تمہارا شوہر ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ عورت مان گئی اور روز جا کر شیر کو گوشت کا ایک ٹکڑا کھلانے لگی۔ شیر بھی اب اس سے مانوس ہوگیا۔ وہ عورت شیر کو ہاتھ بھی لگاتی۔ ایک دن وہ عورت شیر کا ایک بال نکال کر بزرگ کے پاس لے آئی۔ بزرگ نے بال دیکھ کر عورت سے فرمایا۔
جب تم ایک شیر کو خود سے مانوس کر سکتی ہو تو اپنے شوہر کو کیوں نہیں ؟
وہ عورت سمجھ گئی کہ نرمی اور محبت میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ اللّہ ہم سب مسلمان بہنوں کو اپنے شوہر کی تابعدار بنائیں اور خوش رکھے۔ آمین

ام مومن

آپکو ہمارا بلاگ کیسا لگا؟ کومینٹ کرکےاپنی رائے کا اظہار  کریں شکریہ ۔