میں آج کل کہ تعلیم و تربیت سے مطمئن نہیں ہوں۔

 آج کل ماں باپ تربیت کر ہی نہیں رہے یہ ذمہ داری ٹی وی کیبل ، اور بالی ووڈ کے اداکارں کو کو سونپ دی گئ ہے۔ 

بچہ اج کل صرف تب ہی کھانا کھاتا ہے جب موبائل اس کے ہاتھ میں اور اس کی پسند کی چیز چل رہی ہو۔ ورںہ نہیں کھاتا۔ اب مائیں پہلے موبائل پہ بچے کی ڈیمانڈ کی وڈیو پلے کرتی ہیں تب جا کہ بچے کا منہہ کھلتا ہے۔ 

اگر انہیں کہا جائے تو کہتی ہیں کیا کروں بچہ کھانا کھاتا ہی نہیں۔ روتا ہے۔ ارے بھائ رونے دو۔ بچہ رو رو کہ تھک جائے گا چپ ہوجائے گا۔ بھوک لگے گی تو خود ہی کھا لے گا۔ لیکن موبائل سے اس کی نظر کمزور ہو جائے گی۔ پہلے کارٹون پھر گانے پھر وڈیو گیمز۔ پڑھائ میں اس کا دھیان کیسے لگے گا۔ 


کارٹونز میں مارا ماری دیکھ دیکھ کہ اج کل کے بچے سمجھنے لگے ہیں کہ چھوٹے بہن بھائیوں کی خوب پٹائ کی جائے۔ انہیں لگتا ہے جیسے کارٹون بم پھٹنے کے بعد پھر خود کو کھینچ کھانچ کے سیدھا کر لیتا ہے ویسے حقیقت میں بھی سیدھا ہوجائے گا۔ 


کچھ والدین صرف دینی تعلیم پہ دھیان دیتے ہیں ۔ اور کچھ صرف دنیاوی تعلیم پر۔ 

دونوں ہی غلط ہیں۔ کسی ایک سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں دونوں کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان دونوں میں مہارت رکھتا ہو۔اتنا علم ہو اس کے پاس کے مذہب کی آڑ میں بھی کوئ اسے گمراہ نہ کر سکے۔ اور اتنی دنیاوی تعلیم ہو کہ نوکری کر کہ اپنا کوئ کام دھندہ کر کہ اپنی روزی روٹی کما سکے مذہب کو کمائ کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ 


میرا ارمان ہے کہ کاش ہر پاکستانی مذہبی عالم بھی ہو اور ڈاکٹر انجنئیر پائلٹ پروفیسر اور سائنٹسٹ بھی ہو۔ 


والدین سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں ہم نے کوشش تو کی تھی۔ جناب صرف "کوشش" کرنے والے کو انعام نہیں دیا جاتا  پہلے نمبر پہ آنے والے کو دیا جاتا ہے۔ ٹسٹ میں بیٹھنے والے ہر بندے کو نوکری نہیں ملتی صرف اسی کو ملتی ہے جو ٹسٹ "پاس" کرتا ہے۔ 


ایک بات اور،  بے شک سارے والدین کا درجہ بہت بڑا ہے 

لیکن کیا۔۔۔روز قیامت،  عبدالستار ایدھی کے والدین، ایک عام ادمی کے والدین کا درجہ جو بس اپنے لیے جی رہا ہے، اور ایک چور اچکے کے ماں باپ کا درجہ ، ایک رشوت خور لٹیرے، کسی کرپٹ سیاست دان کے والدین کا درجہ،  کیا ان سب کا درجہ برابر ہوگا ۔ ؟؟؟ 

کیا ایک ایسے ڈاکٹر کی ماں،  جس نے اس کے امتحانوں کے دوران راتیں جاگ جاگ کر اس بچے کے سرہانے دعائیں پڑھ پڑھ کہ پھونکتے گزاری، ایک ان پڑھ ادمی کی ماں جس نے گلی میں چھوڑ دیا کہ نصیب میں ہوگا تو پڑھ لے گا۔۔ کیا وہ مائیں برابر ہیں۔ ؟

کیا وہ باپ جس نے ساری زندگی حرام کا ایک لقمہ اولاد کے پیٹ میں نہیں ڈالا اور ایک رشوت کی کمائ بچوں کو کھلانے والا باپ، دونوں برابر ہیں ؟؟؟


موجودہ زمانے کی تربیت سے بھی اتفاق نہیں اور گزرے ہوئے زمانے میں کی گئ تربیت پہ بھی اعتراض ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے مطمئن ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ تربیت تو ماں باپ کو ہی کرنی پڑے گی۔ اب ماں باپ کی اپنی تربیت ہی نہ ہو تو ؟؟؟


کچھ لوگوں کا ایمان ہے کہ جو نصیب میں لکھا ہو انسان خود بخود وہی بن جاتا ہے۔ 

انسان کے لیے تربیت اتنی ہی ضروری ہے جتنی خوراک۔ گاڑی چلانی سیکھنی ہو، پہلے تربیت کرنی پڑتی۔ بندوق چلانا سیکھنی ہو، پہلے تربیت کرنی پڑتی ہے۔  


"ہاں جی پڑھائ پہ کیا سختی کرنی ! نصیب میں ہوا تو کچھ بن جائے گا۔

ارے ہم کونسا کچھ بن گئے جو ہمارا بیٹا کچھ بنے گئے۔

ارے میاں ہم نے تو بہت کہا تھا ، مارا پیٹا بھی پر اس نے نہیں پڑھنا تھا ، نہیں پڑھا۔ ۔ 


ایسے جملے سنتا ہوں تو شدید غصہ آتا ہے۔ خدا کو کیا مشکل تھا کہ ماں باپ کے بغیر ہی بچے پیدا کر دیتا۔ یا صرف عورت یا صرف مرد سے پیدا کر دیتا۔ پر نہیں دونوں کے ملاپ سے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر ملاپ بھی ایسا کہ جس میں مرد و عورت ایک حلال رشتے کی ڈور سے ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوں۔ 

پھر اللہ چاہتا تو ایک دن ایک۔منٹ ایک سیکنڈ میں بچہ پیدا ہوجاتا۔ پر نہیں 9 مہینے ماں کو تکلیف میں رکھا جاتا ہے تاکہ، اس میں محبت پیدا ہوا، بچے کے لیے احساس پیدا ہو۔ 

انہیں تکلیفوں کی وجہ سے جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو ماں کو عزیز ہوتا ہے۔

جانور کا بچہ ایک ادھے دن میں اپنے پیروں پہ چلنے پھرنے لگتا ہے مگر انسان کے بچے کو سالوں لگ جاتے ہیں اس قابل ہونے میں۔ 

اس کی خوراک، ماں کی ذمہ داری، اس کی صاف صفائ، ماں کی ذمہ داری۔ اسے سردی گرمی دھوپ چھاوں سے بچانا ماں کی ذمہ داری۔ 

تو پھر بھلا تربیت کرنی ہی نہیں۔ 

بچہ پیدا کیا۔ سنبھالا۔ بڑا کر کہ گلی میں چھوڑ دیا ؟ اب کوئ پوڈری ہوا تو اس کے ساتھ پوڈر پینے لگ جائے یا کوئ عالم ہوا تو اس کے ساتھ علم سیکھنے بیٹھ جائے، چور اچکوں کا محلہ ہو تو جیب کترا بن جائے۔ ۔ ؟ یہ سوچ کہاں سے لائے ہم لوگ۔ کیا دلیل ہے اس سوچ کی۔

کسی حدیث میں ایسا نہیں لکھا نہ کسی آیت میں لکھا ہے۔ بچوں کا حق ہے کہ ان کی تربیت کی جائے۔ 

تربیت میں دینی تعلیم  شامل ہے۔ اللہ اور رسول کی پہچان ہونا انتہائ ضروری ہے ورنہ ڈاکٹر بن کہ بھی انسان نے قصائ ہی رہنا ہے۔

اور صرف عالم فاضل سے بھی کام نہیں چلے گا کیونکہ اس نے مسجد میں جمعے کی نماز پڑھا کہ محلے والوں کے چندے پہ زندگی گزارنی ہے۔ 

لیکن اگر امام مسجد ساتھ میں انجنئیر بھی ہو۔۔۔ ؟

پاکستان کیا عالم اسلام کیا پوری دنیا کے مسائل کا یہی حل ہے۔اپنے بچوں کو دین اور دنیا دونوں میں کامل تربیت دیں۔

کیسے کی جائے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

اخرت میں یہ کیا جواب دیں گے۔ باپ بولے گا 

جی میں تو باہر مزدوری کرتا تھا مجھے کیا پتہ بچہ محلے میں چرسیوں کے ساتھ گھومنے لگ گیا۔

ماں کہے گی، میرا کیا قصور میں تو کھانے پکانے اور کپڑے دھونے میں لگی رہتی تھی۔ جی اب اگر اپ ایسا بول کہ بچ جاو گے تو یہ آپ کی بھول ہے۔

ماں باپ سے مکمل حساب لیا جائے گا۔۔  


منقول